ئی دہلی،30 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے گنا شیو پوری لوک سبھا سیٹ سے جیوتی رادتیہ سندھیا کے خلاف کھڑے بی ایس پی امیدوار لوکیندر سنگھ راجپوت کانگریس میں شامل کئے جانے پر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کمل ناتھ کو جاری حمایت پر دوبارہ غور کرنے کی دھمکی دی ہے۔ مایاوتی نے ٹویٹ کر کہاکہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال کی صورت میں کانگریس بھی بی جے پی سے کم نہیں ہے۔ پی کے گنا لوک سبھا سیٹ پر بی ایس پی امیدوار کو کانگریس نے ڈرادھمکا کر زبردستی بیٹھا دیا ہے لیکن بی ایس پی اپنے نشان پر ہی لڑ کر اس کا جواب دے گی اور اب کانگریس سرکار کو حمایت جاری رکھنے پر بھی نظر ثانی کرے گی۔ ایک دوسرے ٹویٹس میں مایاوتی نے کہاکہ یوپی میں کانگریسی لیڈروں کی یہ تشہیر کہ بی جے پی گرچہ جیت جائے لیکن بی ایس پی-ایس پی اتحاد کو نہیں جیت چاہئے، یہ کانگریس پارٹی کے نسل پرست، تنگ اور دوہرے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کا یہ ماننا صحیح ہے کہ بی جے پی کو صرف ہمارا اتحاد ہی شکست دے سکتا ہے۔ لوگ محتاط رہیں۔ مایاوتی اور کانگریس کے درمیان کشیدگی اب عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ دراصل اتر پردیش میں مہا گٹھ بندھن میں کانگریس کو شامل نہ کرنے کے پیچھے مایاوتی کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ٹیم کا دلت ووٹ بینک میں نقب لگانے کی کوشش ہے۔ پرینکا ٹیم سے منسلک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی اب اتر پردیش میں اپنی بدولت کھڑے ہونے کا فیصلہ کر چکی ہے اس کے لئے پارٹی دلتوں کو لبھانا چاہتی ہے۔ دلت کبھی کانگریس کا کور ووٹ بینک ہوا کرتے تھے لیکن بی ایس پی کے عروج کے بعد سے پارٹی سے دلتوں نے کنارا کشی اختیار کر لی۔کانگریس کی اس کوشش سے ناراض مایاوتی نے اکھلیش یادو کے ساتھ مہا گٹھ بندھن کے اعلان کے وقت ہوئی پریس کانفرنس میں کہا کہ بی ایس پی کو کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے سے فائدہ کم نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ مایاوتی ناراض ہی تھیں کہ کانگریس نے بی ایس پی کے قدآور لیڈر رہے نسیم الدین صدیقی کو شامل کر لیا اور اتنا ہی نہیں ان کو بجنور سے لوک سبھا کا ٹکٹ بھی دے دیا۔ وہیں اتر پردیش میں دلتوں کے نئے لیڈر کے طور پر ابھر رہے چندر شیکھر آزاد سے بھی پرینکا گاندھی مل چکی ہیں۔ یہ بات مایاوتی کو مزید ناگوار گزری۔ چندر شیکھر آزاد کو مایاوتی بی جے پی کا ایجنٹ بتاتی ہیں۔دوسری طرف جہاں اسمبلی میں بی ایس پی ککملناتھ حکومت کو حمایت کر رہی ہے لیکن لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے سیٹوں کی ان کی مانگ کو نظر انداز کر دیا۔ یہی حال راجستھان کا بھی رہا ہے۔ وہیں کانگریس کا خیال ہے کہ اس لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں جتنی ہی سیٹیں مل جائیں وہی بہت ہے۔